Tuesday, February 10, 2015

All Indian , European and Arabian Languages Translator- Medical-Delegation interpreter- Travel Guide- online teaching, Data Entry, web searcher, visa. Passport, all documents services provider &agency



انتہائی معذرت کے ساتھ !!
یہ پوسٹ خاص طور پر ان نادان یا بیوقوف لڑکیوں کو خبردار کرنے کیلئے کی جا رہی ہے جو بعض اوقات اپنے گھریلو حالات سے پریشان ہوتی ہیں اور جو بھی پیار سے بات کرے اسی کو ہمدرد سمجھ کر اعتبار کر لیتی ہیں اور اپنی نادانی میں غلیظ مردوں کی ہوس کا شکار بن جاتی ہیں !
عام زندگی کے علاوہ یہاں نیٹ پر بھی کئی بد کردار ، آوارہ اور عیاش فطرت لوگ صرف لڑکیاں پھنسانے اور انکی معصومیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے آتے ہیں ، ان کا ایک خاص طریقہ کار ہوتا ہے ، جس پر عمل کر کے وہ لڑکی کو با آسانی شیشے میں اتار لیتے ہیں
کبھی مذھب کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بہت میٹھا ، با اخلاق بن کر اعتماد جیتا جاتا ہے ، پھر Inbox Messages شروع ہو جاتے ہیں ، فون نمبر مانگا جاتا ہے ، پھر تصاویر مانگی جاتی ہیں اور لڑکی کو یقین دلانے کیلئے الله اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جھوٹی قسمیں تک کھائی جاتی ہیں کہ صرف میں ہی دیکھوں گا اور کسی کو نہیں دکھاؤں گا ، اب جو لڑکی بیوقوف ہوتی ہے یا اپنے حالات کی ستائی ہوتی ہے وہ ان باتوں میں آ جاتی ہے اور ان بے غیرتوں کو ہمدرد سمجھ کر اپنے حالات شئیر کر لیتی ہے اور اعتبار کر کے اپنی تباہی کا سامان کر لیتی ہے
اور پھرجب وہ لڑکی مکمل طور پر ان کے بس میں آ جاتی ہے تو ملاقات پر اصرار کیا جاتا ہے ، ملنے سے انکار پر لڑکی کے گھر والوں کو بتانے کی دھمکیاں دے کر اس لڑکی کو باہر بلا کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے اور اس کی بھی ویڈیو اور تصاویر بنا لی جاتی ہیں جن کو مستقبل کی بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، یعنی ایک شریف لڑکی کو جسم فروشی کی اس دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے ، جس سے وہ چاہ کر بھی نہیں نکل سکتی ، لڑکی صرف اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں گھر والوں کو پتا نہ چل جائے ، بس تڑپتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے کہ کس لمحے اس سے یہ غلطی ہوئی اور ہر لمحے موت کی دعا مانگتی ہے
لہٰذا میری بہنوں نیٹ پر کسی شخص کا اعتبار نہ کریں جو آپ سے محبت کے نام پر گفتگو کرتا ہو یا مذھب کا سہارا لے کر آپ کے قریب ہونے کی کوشش کر رہا ہو ، یہ بھی ممکن ہے وہ آپ کے ساتھ اور بہت سی لڑکیوں کو بیوقوف بنا رہا ہو اسلئے خود بھی بچیں اور اپنی دوستوں کو بھی بچائیں !
براہ مہربانی نیٹ پر لڑکوں سے رشتے داریاں نہ بنائیں ، نہ ہی ان کو اپنے فوٹو وغیرہ دکھائیں ،
ضرورت کیا ہے آخر ، خود کو نمائش کیلئے پیش کرنے کی ؟؟؟
کیا آپ کو ہونے والے ان نقصانات کا اندازہ ہے جو کل آپ کی آنے والی زندگی تک تباہ کر سکتے ہیں ؟؟؟
اپنی تصاویر اپنی فیملی کے لئے رکھیں ، نیٹ پر ان تصاویرکا بنا اجازت کاپی کر کے غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو خبر تک نہیں ہوتی اور یہ چیز آپ کے لئے نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے !!! ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں لڑکیوں کی تصاویر یا وڈیو بنائی گئی اور پھر انھیں بلیک میل کر کے غلط کام کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی لڑکیوں نےخودکشی کر لی !
میری بہنو فرض کریں کہ
اگر آپ ایسی ہی ایک لڑکی ہو جو ایسے کسی بے غیرت انسان کے ہتھے چڑھ گئی ہوں اور گھر والوں کے ڈر سے کسی کو بتا بھی نہیں سکتی کہ کیسے ان لوگوں یا حالات سے چھٹکارا پایا جائے ، تو میری بہنو ایک غلطی تو آپ سے ہو چکی ، جیسے بھی ہوئی مگر اب اس ڈر سے کہ گھر والے کیا کہیں گے ، آپ خاموش نہ رہیں پلیز ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے آپ اپنی امی ، بہن وغیرہ کو بتا کر ان سے مدد مانگیں ، ان کا غصہ وقتی ہو گا مگر ہو گا آپ ہی کی بھلائی میں ، اور آپ کو اس غلاظت سے نکلنے میں مدد دے گا اور آئندہ کیلئے ایک سبق بھی . باقی معاف کرنے والی ذات الله پاک کی ہے وہ بہت مہربان اور معاف کرنے والا ہے !
اب آخر میں !!!
آوارہ اوباش لڑکوں اور مردوں کے لئے ایک پیغام !!!
عورت مقدّس ہے اسکے تقدّس کو اپنے اعمال سے پامال مت کیجئے !
یاد رکھیں !!! کہ آپ آج جس طرح کسی اور کی بہن ، بیٹی کو ورغلا رہے ہو، اس کے ساتھ زنا کرنا چاھتے ہو کل کو یہی سب آپ کے گھر Repeate ہو گا کیوں کہ دنیا مکافات عمل ہے ، کسی کی بیٹی کے تن سے چادر ہٹا نے سے پہلے سوچنا کہ کل یہی کچھ آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہی نہیں بلکہ لازمی ہو گا !
آج اگر آپ کسی کی بچی کی زندگی خراب کرو گے تو کل آپ کی اپنی بیٹی بھی
اسی مقام پر کھڑی ہو گی اور آپ کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہ ہو گا !
ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻌﺾ ﮔﻨﺎﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﻭﮦ ﻭﺭﺍﺛﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﺎﺗﺎﻝ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ۔ !
اگر آپ اپنے لئے ایک نیک بیوی اور نیک بیٹی کی کی آرزو رکھتے ہو تو
دوسروں کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت دینا سیکھو کیونکہ قران پاک میں ہے
الخَبيثٰتُ لِلخَبيثينَ وَالخَبيثونَ لِلخَبيثٰتِ ۖ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبٰتِ ۚ
﴿٢٦﴾ سورة النور
(
ترجمہ) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔
اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔ —
الله پاک ہم سب کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے .(آمين

Sunday, February 8, 2015

All Indian , European and Arabian Languages Translator- Medical-Delegation interpreter- Travel Guide- online teaching, Data Entry, web searcher, visa. Passport, all documents services provider &agency



SYED AFFAN


I am pleased to introduce myself as a freelance Arabic, English, Urdu,  Hindi, language translator , Medical , delegation Interpreter, on call languages service provider and web searcher , I have been doing translation– Interpretation- Editing- proofreading- Typing  for last five years in Delhi.
                                
I committed to provide the highest quality possible in translation, interpretation field, and my services is Quick turnaround time to the customer and competitive prices, so you can contact me for highest quality and quick services.

I assure you that I shall try my best to give you entire satisfaction and fulfill all required in translation field; I sincerely hope you will give me a chance to display my extensive translation experience. I will be a valuable asset for you and your company in future collaborations.
Contact us:

Mob: 91-9911024715
          
yahoomail: syed_quadrin@yahoo.co.in

Skype:
      syed.affan.quadri

Gtalk:
       syedaffanquadri@gmail.com

                                                           

Postal Address:

B-87 Flat 402, Yamuna Apartment, Behind Zyed girls college, Shaheen Bagh Jamia Nagar New Delhi, 110025

Qualifications:

M.A (Arabic <> English translation and interpretation with special reference to Arabic Literature and Culture)
From University of Delhi (DU) New Delhi India

M.A (Urdu <> English translation and interpretation with classical and Modern  Literature and Culture)
From Jamia Millia Islamia (JMI) New Delhi India

B.A (Arabic <> English translation and interpretation with special reference to Arabic Literature and Culture)
From Jamia Millia Islamia (JMI) New Delhi India

Diploma in Arabic <> English translation from (NCPUL) Under HRD ministry Govt. of India

Diploma in computer software and application from (I.I.T. Grukul) under HRD ministry Govt. of India


Diploma in Library Science from (NIOS) New Delhi
under HRD ministry Govt. of India

10+2 Arabic<> Urdu Translation with Islamic, Arabic, English, Urdu education from Nadwa Arabic college, Lucknow U.P

Services provided.

Translation

Interpretation

Editing

Online teaching,

Data Entry

Proofreading

Home tuition

Web Researcher
On call service provider

Typing

Tab setting

Languages known:

Arabic, Urdu, English, Hindi, Native language Urdu

Professional Experience:

I have
6years’ experience in providing Freelance Translation, interpreting, Editing, Proofreading, on call service providing, web searching , on line teaching, Arabic, English and Urdu typing on Unicode and impage at New Delhi, India.

Hardware

Dole core, High-speed Internet Connection, Scanner, Printer & Etc.


Subject area covered

Marketing, Child Care, Education, Finance, Fire Protection, Food Sciences, Family History Research, General, Health, History, Information Sciences and Systems, Journalism and Mass Communication, Law and Legal, Linguistics, Literature, Medicine - Medical Technology, Medicine - Nursing, Medicine - Public Health Education and Promotion, Religion, Religion and Religious Studies, Sport and Fitness, Tourism and Travel Transportation & Board Certificates, Degree Certificates, Diploma Certificates. Provisional Certificates, Mark Sheets, Private Diploma etc. Marriage Certificates, Birth Certificates, Death Certificates, Experience Certificates, Transfer Certificates, Medical Reports. Police Clearances, Legal Heir ships, Divorce papers, Power of Attorney, Affidavits, Company Documents, and Legal Translation of regional, documents to Englis
h, Translation Services, Interpretation services, Travel Guiding.  Placement Services, Document translation, Conference Interpretation, Business Interpretation, Visa translation ,Passport translation ,Marriage certificate translation ,Visa application translation, Invoice translation ,Manual translation ,Medical translation ,Language expert and professionals supply,  Language editing and voice over services ,Visa and passport assistance,

Friday, February 6, 2015

مسیحی لوگوں کا سب سے بڑا فرقہ ’’کیتھولک‘‘ ہے۔ اس فرقے کا مرکز اٹلی کا شہر روم ہے



مسیحی لوگوں کا سب سے بڑا فرقہ ’’کیتھولک‘‘ ہے۔ اس فرقے کا مرکز اٹلی کا شہر روم ہے۔
 عیسائیت کا دوسرا بڑا علمبردار ملک فرانس ہے، البتہ قوت کے لحاظ سے فرانس پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے دارالحکومت پیرس سے ایک ہفت روزہ شائع ہوتا ہے، اس کا نام ’’چارلی‘‘ ہے۔ چارلی نے اللہ کے رسولﷺ کے خاکے 2011ء سے شائع کرنے شروع کئے، آخرکار اس رسالے کا سارا عملہ ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اس رسالے کا ایک بانی رکن مسٹر ہیری بتلاتا ہے کہ میں نے چارلی کے ایڈیٹر شارب کو سمجھایا کہ ایسا ہرگز نہ کرو، تمہارا یہ رویہ اسلام دشمن پالیسی ہے۔ یہ پالیسی ساری دنیا کے مسلمانوں کو اشتعال دلائے گی۔ میری اس تجویز کو شارب نے مسترد کر دیا اور خاکوں کی اشاعت کو ’’ایڈیٹر کا فیصلہ‘‘ قرار دے کر مجھے مایوس کر دیا، لہٰذا عملے کے بارہ بندوں پر حملے اور ہلاکت کا ذمہ دار چارلی کا ایڈیٹر شارب ہے جو ہٹ دھرم اور ضدی تھا، کوڑھ مغز تھا۔
قارئین کرام! ٹیلی گراف میں دیئے گئے بیان کے مطابق چارلی کا ایڈیٹر کوڑھ مغز تھا یعنی جس طرح کوڑھ ایک بیماری ہے، اسے جذام بھی کہتے ہیں اور ایسے مریض کے قریب بھی کوئی نہیں آتا۔ یہ بیماری چارلی کے ایڈیٹر شارب کے دماغ میں تھی، اس کی سوچ اور تصورات میں کوڑھ اور جذام تھا، یہ وہی بیماری ہے جس کے مریض پر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اپنا ہاتھ مبارک پھیرتے تھے اور مریض تندرست ہو جاتا تھا۔ یہ بات انجیل میں بھی ہے اور قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے۔ جی ہاں! یہ بیماری ایک ایسے شخص کے خیالات میں تھی جو اپنے آپ کو مسیحی کہلاتا تھا۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ وہ اور اس کا عملہ نام کے مسیحی تھے۔ اصل میں وہ صہیونی یہودیوں کے آلہ کار اور ملحد تھے۔ بہرحال! وہ جو بھی تھے، کوڑھ مغز تھے۔
حیرت تو ان چالیس لوگوں پر ہے جن میں یورپ اور دیگر ملکوں کے حکمران اور نمائندے تھے۔ ان سب کو ترقی یافتہ کہا جاتا ہے اور مہذب کہا جاتا ہے۔ یہ کیسے تہذیب یافتہ لوگ تھے کہ فرانس میں اکٹھے ہو کر سب اعلان کر رہے تھے کہ ہم سب چارلی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اعلان کر رہے تھے کہ جس طرح مسٹر شارب کوڑھ مغز تھا ہم بھی اسی طرح کے کوڑھ مغز لوگ ہیں۔ ہم شارب کے پشتیبان ہیں، وہ جو کر رہا تھا درست کر رہا تھا، ہم سب اس کی حرکتوں کی تائید کرتے ہیں۔ فرانس کا مسٹر ہنری بے چارہ پہلے ایک کوڑھ مغز پر کڑھتا تھا اب اسے چالیس کوڑھ مغزوں پر کڑھنا پڑے گا۔ انصاف پسند لوگ تو اس وقت بھی کڑھے تھے جب سلمان رشدی کو برطانیہ نے ایوارڈ دیا۔ ایوارڈ بھی وہ دیا جو برطانیہ کے لئے جنگی خدمات سرانجام دینے والوں کو دیا جاتا تھا۔ اسے نائٹ ایوارڈ (Knight Award) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح تسلیمہ نسرین کو بھی حکومت فرانس کی جانب سے انسانی حقوق کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی قماش کے دیگر گستاخوں کو بھی یورپ کے مختلف ملکوں نے انعام دیئے۔ اور اب سب نے مل کر کہہ دیا کہ ہم ان لوگوں کے ہمنوا ہیں، ان لوگوں کے ہم زبان ہیں، ہم سب چارلی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں بہت دکھی ہوں کہ تہذیب مر گئی، میں انتہائی غمناک ہوں کہ شائستگی دم توڑ گئی، میں انتہائی کرب میں ہوں کہ کوڑھ مغز تصور اجاگر ہو کر علانیہ سامنے آیا ہے۔
اے دنیا کے مہذب لوگو! کس کے خلاف؟ ارے، اس ہستی کے خلاف کہ جن پر جو آخری کتاب قرآن نازل ہوئی، اس قرآن نے ایک خالق کی عظمت کو بیان کیا، صفات کو بیان فرمایا اور پھر صاحب قرآن حضرت محمد کریمﷺ کی زبان سے اک انتہائی شائستہ اور مہذب اعلان ہوا۔ اپنے ماننے والوں کے لئے اک درس اور نصیحت کا اعلان ہوا، فرمایا:
’’
یہ (شرک کرنے والے لوگ) اللہ کو چھوڑ کر جن (مورتیوں وغیرہ) کو پکارتے ہیں، اے مسلمانو! ان کو برا بھلا مت کہنا کیونکہ اس طرح وہ نادان لوگ دشمنی میں آ کر اللہ کو گالی دے دیں گے۔‘‘ (انعام: 108)
ہاں ہاں! ارے کس کے خلاف؟ اس عظیم ہستی کے خلاف کہ جنہوں نے اپنے ماننے والوں کو یہ سبق دیا کہ شیطان کو بھی گالی نہ دو (سلسلہ البانی)۔ اللہ اللہ! میرے حضورﷺ کا اخلاق اس قدر آسمانوں کی بلندیوں پر کہ کہیں حضورﷺ کا کلمہ پڑھنے والے کا اخلاق متاثر نہ ہو، زبان آلودہ نہ ہو، بدزبانی کا عادی نہ بن جائے، لہٰذا شیطان کی شرارتوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ضرور طلب کرو مگر اسے گالی نہ دو۔ لوگو! میرے حضورﷺ کے بلند اخلاق کے واقعات پر تو کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں مگر میں نے صرف ایسی دو چیزوں کاذکر کیا ہے کہ جہاں گالی دینے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا، اخلاق کے منافی نہیں سمجھا جاتا کہ ایک پتھر کی مورتی ہے، اور دوسرا شیطان ہے۔ میں صدقے جاؤں اپنے حضورﷺ کے بلند اور عظیم اخلاق پر کہ ان کے بارے میں بھی اخلاق اور شائستگی کا درس دے دیا۔ ایسی محترم ہستی کے خلاف اے چالیس لوگو۔۔۔ تم کھڑے ہو جاؤ، پھر مسٹر ہنری فرانسیسی کی زبان میں تم لوگوں کو کوڑھ مغز نہ کہوں تو کیا کہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی جسمانی کوڑھوں کا علاج کیا تھا، ذہنی کوڑھوں کا کیا علاج ہو؟ کوڑھ مغزوں کا کیا علاج ہو؟ ذرا بتلاؤ تو اے اپنے آپ کو مہذب کہلانے والو؟
امریکہ کے دو اخبارات واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز نے دنیا کے دو حکمرانوں کے خاکے بنائے، اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کا خاکہ کہ اس کے دونوں ہاتھ غزہ کے بچوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے احتجاج کیا اور اخبار نے معافی مانگ لی۔ اسی طرح انڈیا کے نریندر مودی کو گائے کے ساتھ اڑتے ہوئے فضا میں دکھلایا گیا۔ یہ مذاق تھا مودی کی اس بات کا کہ موجودہ خلائی ٹیکنالوجی تو ہمارے دیوتاؤں نے دی تھی۔ ہاں ہاں! اخبار نے اس پر بھی معذرت کر لی۔ بتلاؤ! اب تمہاری آزادی اظہار رائے کہاں گئی؟ مر تو وہ پہلے ہی چکی تھی کہ ہولوکاسٹ پر کوئی رائے کا اظہار نہیں ہے۔۔۔ پھر تم لوگوں کو محض ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی محبوب ہستی ہی مزاحیہ خاکوں کے لئے ملی ہے؟ جمہوریت یہ ہے کہ رائے عامہ کا احترام کیا جاتا ہے۔ ڈیڑھ ارب انسانوں کی رائے کا احترام کہاں گیا؟ جمہوری رویہ کہاں دم توڑ گیا؟
تم لوگ امن کی باتیں کرتے ہو، ایسے توہین آمیز رویوں سے بتلاؤ، دنیا میں امن آئے گا یا امن غارت ہو گا؟ یقیناًامن غارت ہو گا، پھر امن کا دشمن کون ہے؟ دہشت گرد کون ہے؟ سوال ہے میرا اے چالیس ملکوں کے چالیس نمائندو! ذرا بتلاؤ تو سہی، کوڑھ مغز کے حامل رویے جاری رہے تو امن کی فاختہ کو کون دیکھے گا؟ حضرت محمد رسول کریمﷺ کی حرمت و عزت کے تحفظ کا قانون نہ بنا تو اے سلامتی کونسل والو! دنیا کو سلامتی کیسے ملے گی؟ کیونکر ملے گی؟ جواب دو جواب
Bottom of Form

Monday, February 2, 2015

ہم کس منہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جائیں گے؟



ہم کس منہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جائیں گے؟
اسلامی دنیا اور اس کے رہنماؤں کا حال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پیرس واقعہ کے بعد تو عمومی طور پر اْن کے رویہ نے گویا دل چھلنی کر دیا۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کی کھلی گستاخی کرنے والوں کے خلاف پوری اسلامی دنیا میں کوئی بولنے والا نہیں بلکہ الٹا گستا خی کرنے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پیرس واقعہ کے بعد تو گستاخی کرنے والے اپنے گھناؤنے کرتوتوں کے ساتھ اور کھل کر سامنے آ گئے۔ ویسے تو بڑے بڑے اسلامی ممالک اور اْن کے بڑے بڑے حکمران ہیں مگر کوئی نہیں جو اس مسئلہ کو مغرب کے سامنے سنجیدگی کے ساتھ اٹھائے اور ایک ایسا لائحہ عمل بنائے کہ اسلام کے خلاف اس ناپاک سازش کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ویسے تو ہم ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان ہیں مگر جو کچھ چارلی یبڈو اور اْس جیسے دوسرے اخبار و جرائد کر رہے ہیں اس پر نہ کوئی ملین مارچ ہے نہ متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی احتجاج۔ الٹا اْن سے ہمدردیاں جتائی جا رہی ہیں۔
غیروں سے کیا شکایت، دکھ تو اپنوں سے ہے کہ وہ اختیار رکھتے ہوئے بھی اس پاک ہستی کی حرمت کے مسئلہ پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جن سے ہماری محبت ہماری اپنی جان، اپنے ماں باپ، اولاد کی جانوں اور مال سے زیادہ ہونا قرآن اور حدیث کے مطابق لازم ہے۔ آخرت میں ہم تو اللہ کے حکم سے نبیؐ کی شفاعت کے محتاج ہوں گے مگر جب ہمارا یہ رویہ ہو تو ہم کس طرح اپنے نبیؐ سے درخواست کریں گے کہ اللہ سے ہمارے لئے بخشش اور ہمارے گناہوں کی معافی کی سفارش فرمائیں۔ بخاری کی ایک حدیث کے مطابق جب قیامت کا دن ہو گا اور لوگ انتہائی پریشان حال ہوں گے تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور درخواست کریں گے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے شفاعت کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے کہ میںیہ نہیں کر سکتا اور وہ لوگوں سے کہیں گے کہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں۔
جب پریشان حال لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہی درخواست کریں گے تو آپؑ بھی اْن سے فرمائیں گے کہ میں ایسا نہیں کر سکتا اور اْن سے کہیں گے کہ تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ کلیم اللہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام بھی لوگوں سے فرمائیں گے کہ میں ایسا نہیں کر سکتا اور انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جانے کو کہیں گے تو آپؑ بھی فرمائیں گے کہ میں یہ نہیں کر سکتا اور لوگوں سے کہیں گے شفاعت کے لیے حضرت محمدؐ کے پاس جاؤ۔ جب لوگ یہ درخواست لے کر آپؐ کے پاس آئیں گے تو آپؐ فرمائیں گے کہ ہاں میں شفاعت کروں گا کیوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی اجازت مانگی تھی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اجازت عطا فرمائی۔ پھر آپؐ کو اللہ تعالیٰ ایک خاص قسم کی حمد و ثنا الہام فرمائیں گے جو پڑھ کر آپؐ سجدہ میں گر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپؐ سے فرمائیں گے کہ اے محمدؐ اپنا سر اٹھائیے اور کہیے آپ کیا کہنا چاہتے ہیںآپؐ کو سنا جائیگا اور مانگیے آپؐ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجیے آپؐ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ اس پر نبیؐ فرمائیں گے ’’یا رب اْمتی اْمتی (اے میرے رب میری امت پر رحم فرمائیے)۔ اس پر اللہ تعالیٰ نبیؐ کو فرمائیں گے کہ جائیے جہنم والوں میں سے جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو لے آئیں۔ آپؐ پھر دوبارہ سجدہ میں گر جائیں گے۔ وہی مکالمہ ہو گا اور پھر اللہ تعالیٰ آپؐ سے فرمائیں گے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو اسے لے آئیں۔
آپؐ پھر سجدہ میں گر پڑیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ آپؐ سے فرمائیں گے کہ جس کے دل میں ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا بھی ایمان ہو اس کو لے آئیں اْس کو بھی اللہ کے حکم سے جہنم سے نکال لیا جائے گا۔جو ہستی چودہ سو سال قبل ہمارے لیے دن رات روتی رہی، جس نے ہماری آخرت سنوارنے کے لیے ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کیا اور پوری پوری رات جاگ کر ہمارے لئے ہدایت اور آخرت میں کامیابی کے لیے دعائیں کیں اور جو اللہ کے حکم سے آخرت میں ہماری بخشش کاواحد سہارا ہوں گے اس پاک ہستی کی توہین ہو اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ میں نہ گولی کی بات کرتا ہوں اور نہ بندوق کی میری درخواست تو دنیا ئے اسلام کے حکمرانوں اور رہنماؤں سے یہ ہے کہ اس موجودہ سردمہری ترک کریں اور پرامن احتجاج کا ہر وہ راستہ اختیار کریں جس سے ہم مغرب کو مجبور کر سکیں کہ وہ ہمارے نبیؐ کے متعلق گستاخانہ رویہ ترک کردیں۔ چاہے وزیر اعظم نواز شریف ہوں، یا عمران خان اور آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، الطاف حسین ، اسفندیار ولی یا کوئی دوسرا۔ سب کو اس معاملہ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اپنی اپنی سیاست کے لیے تو یہ لوگ روز احتجاج کرتے ہیں، ملین مارچ کی کال دیتے ہیں مگرپیغمبر کی حرمت کے تحفظ کے لیے کوئی کچھ نہیں بول رہا اور یہی حال تقریباً تمام اسلامی ممالک کا ہے۔ میڈیا کا حال بھی برا ہے۔ شعیب ملک ثانیہ مرزا کی شادی ہو یا عمران خان اور ریحام خان کا بندھن، کسی اداکار اداکارہ کی برسی ہو یا سالگرہ یا کوئی اور تماشا، میڈیا کے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت کی کوئی کمی نہیں مگر افسوس کہ پیرس واقعہ کے بعد رونما ہونے والی صورت حال میں نہ کوئی ٹاک شو ہو رہا ہے نہ خبروں میں کوئی تبصرے۔ مسلمانوں کو ایک پرزور اور پر امن احتجاج کے لیے تیار کرنے کیلئے حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور علماء کا بہت اہم کردار ہے مگر افسوس ہر طرف ہو کا عالم ہے اور لگتا ایسا ہے کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ اے میرے رب ہم کس منہ سے نبیؐ کا آخرت میں سامنا کریں گے۔