Sunday, July 22, 2012

روزہ کا اصل مقصد / رمضان کے بعد پھر بے قیدی / مقصد زندگي – بندگئی رب


روزہ کا اصل مقصد
ہر کام کا ایک مقصد ہوتا ہے، اس میں لازمی طور پر دو چیز ہوا کرتی ہیں ۔ ایک چیز تو وہ جس کے لیئے کام کیا جاتا ہے، اور دوسری چیز اس کی خاص شکل ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے ليئے اختیار کی جاتی ہے، آج ہماری عبادتیں کیوں بے اثر ہو گئی ہیں، آج کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے روزے کے ارکان اور اس کے ظاہر صورت کو ہی اصل عبادت سمجھہ رکھا ہے جس نے یہ ارکان ادا کردیے اس نے بس اللہ کی عبادت کردی۔ جو روزہ دار صبح سے شام تک اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے وہ عین اس عبادت کی حالت میں جھوٹ کیسے بولتا ہے؟ غیبت کس طرح کرتا ہے؟ بات بات پر لڑتا کیوں ہے اس کی زبان سے گالیاں کیوں نکلتی ہیں؟ وہ لوگوں کا حق کیسے مارتا ہے؟ حرام کھانے اور حرام کھلانے کا کام کس طرح کرتا ہے؟ اور پھر یہ سب کام کرکے یہ کیسے سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کی عبادت کی ہے؟
رمضان کے بعد پھر بے قیدی
360 گھنٹے خدا کی عبادت کرنے کے بعد جب ہم فارغ ہوتے ہیں تو اس پوری عبادت کے تمام اثرات شوال کی پہلی تاریخ ہو کو کا فور ہوجاتا ہے، ہندو جو اپنے تہوار میں کرتے ہیں وہ سب ہم اپنے عید میں کرتے ہیں، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے اندر عید کے دوسرے دن بھی تقوی اور پرہیزگاری کا کوئي اثر باقی رہتا ہے؟ خدا کے قوانین میں کون سی کسر اٹھا رکھی جاتی ہے؟ نیک کاموں میں کتنا حصہ لیا جاتا ہے اور نفسیات میں کتنی کمی آجاتی ہے؟
مقصد زندگي – بندگئی رب
اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ کی عبادت بنادینا ہے، انسان بندہ پیدا ہوا ہے اور بندگي اس کی عین فطرت ہے۔ اس لیئے عبادت یعنی بندگی سے ایک لمحہ کے لیئے بھی آزاد نہ ہونا چاہیئے اللہ کی خوشی کس چیز میں ہے اور اس کا غضب اور ناراضگي کس چیز میں ہے اسے معلوم ہونا چاہیئے، اس کے غضب والے کاموں سے اس طرح بچے جس طرح آگ سے بچتا ہے۔ جو طریقہ اس نے پسند کیا ہے اس پر چلنا چا ہیئے اور جو نا پسند کیا ہے اسے چھوڑ دینا چاہیئے۔ جب انسان ساری زندگی اس رنگ میں رنگ جائے  تب سمجھو اس نے اپنے مالک کی بندگي کا حق ادا کیا  اور " وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون" کا منشا پورا ہو گيا

Wednesday, July 18, 2012

ہم نے انسان اور جنات کو صرف اپنی عبادت کے لیئے ہی پیدا کیا ہے (قرآن)


اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی پیدائش کا مقصد اللہ کی عبادت کے سوا کچھہ نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہےکہ عبادت کامطلب جاننا ہمارے لیئے کس قدر ضروری ہے۔ اس سے عدم واقفیت اس مقصد کو ہی پورا نہیں کرتا جس کے لیئے ہم پیدا ہوئے ہیں۔ اور جو چیز اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتی وہ ناکام ہوتی ہے۔ اس لیئے ہمیں چاہیئے کہ عبادت کے مطلب کو جانیں، سمجيھں اور اپنے دل میں جگہ دیں، کیوں کہ اسی پر ہماری زندگی کے کامیاب یا ناکام ہونے کا انحصار ہے۔
عبادت کے معنی بندگی اور ‏ّّغلامی کے ہیں، جو شخص کسی کا بندہ اور غلام ہے اسے چاہیئے کے اپنے آقا کی حق غلامی اور پوری وفاداری ادا کرے۔ بندے کا پہلا کام یہ ہے کہ آقا کو ہی آقا سمجھے اور یہ خیال کرے جو میرا مالک ہے، جو مجھے رزق دیتا ہے، میری حفاظت اور نگہبانی کرتا ہے اس کی وفاداری مجھہ پر فرض ہے اس کہ سوا کوئی اور مستحق نہیں کہ اس کی وفاداری کی جائے۔
بندے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ہر وقت آقا کی اطاعت کرے، اس کے حکم کو بجا لائے، کبھی اس کی خدمت سے منہ نہ موڑے ، آقا کی مرضی کے خلاف نہ کوئی بات کرے نہ کسی دوسرے شخص کی بات مانے، غلام ہر وقت غلام ہی رہتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ کچھہ باتیں مانوں گا کچھہ نہیں کچھہ وقت غلام ہوں اور باقی وقت آزاد ہوں۔
بندے کا تیسرا کام یہ ہے کہ آقا کا ادب اور اس کی تعظیم کرے اس کی پیروی کرے جو آقا نے مقرر کیا ہے ، جو وقت سلامی کا مقرر ہے اس وقت حاضر ہو اور اس بات کا ثبوت دے کہ وہ اس کا وفادار اور اطاعت گذارغلام ہے۔ اللہ نے جن اور انس کو اس لیئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف اللہ کا وفادار ہوں اس کے سوا کسی اور کی اطاعت اور فرماں برداری اس کے خلاف کسی اور کا حکم نہ مانیں، صرف اسی کے آگے ادب اور تعظیم سے سرجھکا ئیں کسی اور کے آگے نہ جھگائیں۔ ہمارے نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے پہلے جتنے نبی خدا کی طرف سے آئے ہیں سب کی تعلیم کا لب لباب یہی ہے " اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو" وہی ایک بادشاہ ہے اسی کا قانون ہے وہی ایک ہستی ہے جس کی ہمیں عبادت اور پرستش کرنی چاہیئے اور وہ ذات صرف اللہ کی ہے۔
عبادت پوری زندگي میں
اپنی زندگی میں ہروقت اور ہر حال میں اللہ کے قانون کی اطاعت کریں، ہر فعل اس طریقہ کے مطابق ہو جو اللہ نے بتایا ہے، ہر ہر قدم پر یہ دیکھیں کہ اللہ کے نزدیک کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، کیا حلال ہے کیا حرام، کس چیز کا حکم کیا اور کس چیز سے منع کیا، کس چیز سے خوش ہوتا ہے اور کس چیز سے ناراض۔ پس اللہ کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے بعد سےمرتے دم تک ہم خدا کے قانون پر چلیں اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گذاریں۔
روزہ – متقی بننے کا ذریعہ ہے
یہ سمجھنا کہ روزہ سحر سے مغرب تک کـچھہ نہ کھانے اور نہ پینے کا نام روزہ ہے یہ تصور غلط ہے، یہ بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کی صورت ہے، اور اس کا مقصد ہمارے اندر خدا کا خوف اور اس کی محبت پیدا کرنا ہے تاکہ آپ کے اندر اتنی طاقت پیدا ہوجائے کہ جس چیز میں دنیا بھر میں فائدے ہوں مگر خدا ناراض ہوتا ہو تو اس سے اپنے نفس پر جبر کرکے بچ جائیں، اور جس چیز میں ہر طرح کے خطرات اور نقصانات ہوں مگر خدا اس سے خوش ہوتا ہو تو ہم اپنے نفس کومجبور کرکے آمادہ کرسکیں، خدا کا خوف اور اور اس کی محبت میں اپنے نفس کو خواہشات سے روکنا اور اس کی رضا کے مطابق نفس کو آمادہ کرنا یہی مقصود روزہ ہے، یہی سبب ہے کہ اللہ نے روزے کا حکم دینے کے بعد فرمایا " شاید کے تم متقی بن جاؤ" جو اس کے مقصد کو سمجھے گا اور اس کے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا وہ متقی بن جائے گا، جو اس کے مقصد کو ہی نہ سمجھے اور اس سے فائدہ حاصل نہ کرے تو وہ خسارے میں ہوگا۔
محمد صلی اللہ نے فرمایا " جس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اس کا کھانا اور پانی چھڑا دینے کی اللہ کو کوئی حاجت نہیں"
"روزہ ڈھال ہے لہذا جب کوئی شخص روزے سے ہو تو اسے چاہیئے کہ دنگے فساد سے پرہیز کرے اگر کوئی اسے گالی دے، یا اس سے لڑے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں"
"جس نے روزہ رکھا ایمان اور ثوب کی امید کے ساتھہ تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے"


Tuesday, July 17, 2012

Training to Become a Professional Translator


It is important to know the reasons you intend to become a certified translation professional. Is it for the money? Is it for the fame? Are you just interested in a part-time job or is it a hobby of yours? In order to become a good translator you will need to have the knowledge of your intentions in order to becoming a good one. You have to believe in them as the base of your entire Professional Translator career, that way you can develop your own rules, strategies and tools that will also determine your exclusive way of translating in a professional manner. It is necessary to identify your clients and work, each and every single one of them has different ways of visualizing their final work results. Your intention as a Professional Translator is to translate your client’s expectations with integrity and discipline to make your work worthwhile. The ideal Professional Translator should also find pleasure while working with translation. Despite the fact that you could spend hours, or even weeks working on the same piece of work, motivation is crucial. If you enjoy what you do, then certainly your work will demonstrate that to your readers and clients.

Thursday, July 5, 2012

There are several benefits of becoming a certified translator


 
     Personal enjoyment – you have the freedom to choose which translation field you’d be interested in working with. The field of translation is vast. One may become a legal/medical translator, while others may want to become specialized in other fields such as business, marketing etc. A translator that works with numerous fields is more likely to have clients at all times.

     Self-sufficiency – here you have a great opportunity to start out your own translation business and set up your translation rates. The rate depends on the project, length of the project, your expertise in that field, timeline of the project, and other variables that any translator should consider.

     Work as a freelance translator – creating and establishing your working style, making your schedule to accommodate as many hours as you wish to work.

Friday, June 29, 2012

Translation Industry set for big growth in India


Despite global recession, the $ 500 million Indian language translation sector, a sunrise industry, is likely to take off in a big way in the next three years, trade sources feel.
The Asian language translation market revenue accounted for $ 1312 million in 2008 and is projected to reach $ 1410 million in 2009 and touch $ 1516 million in 2010, according to Research and Consulting firm, Common Services Advisory.
The Indian translation market is poised for big growth as it is regarded as a great consumer base and especially as more and more multinational companies are setting shop here and the need to speak the language of the local populace is being felt more strongly than ever before, the sources said.
Currently Indian language market size might be estimated at “approximate value” of $ 500 million, Chinmayi Sripada, CEO of Chennai-based Blue Elephant, a leading language translation service provider, told PTI.
The estimate was based assuming India’s share at five per cent of the global market as per the growth pattern projected by Common Sense Advisory and also NASSCOM reports that India was sharing 5.2 per cent of the Information Technology Enabled Services (ITES) market, she said.
She feels the language translation market has not yet hit boom time. ”It is still classified as a sun-rise industry and I think the boom will happen perhaps in the next three years.’
Ms. Chinmayi admits that recession has hit business globally. “Some of my clients worked on cutting down translation expenditure. But at the same time, this has also been the period where we have been able to tie up with new MNCs with regard to interpretation services.” Language translation service forayed into India in the late nineties with the internet gaining wider acceptance among the community. Earlier, linguists used to travel to the country concerned or work used to come to them.
Translation service providers say that the major market is still outside India with a majority of clients showing interest in translating the related text into several widely spoken Indian languages.
“With more tie-ups happening and with entrepreneurs wanting to add localization/interpretation/translation as another service of value to their clients, the translation industry is undoubtedly growing,” Ms. Chinmayi said.
Trade sources said though the market is growing, the challenge to it is that a major component of the industry functions in an unorganized, unaffiliated nature which, they feel, affects the quality of the final product.
Asked about this, Ms. Chinmayi said with individual linguists there is a “serious lack of professionalism and commitment.” “A lot of linguists in the market, especially interpreters of foreign languages do not have a great command over the English language, especially if they are translating into English,” she said.
Blue Elephant’s major clients, who include Scope, Ashok Leyland, Covansys (Now CSC), Ford, AdventNet, iGate and Renault Nissan, has recently started providing Japanese Interpretation services to various clients in Chennai.
The company’s recent assignments on interpretation and Translation have been in Japanese and Nordic Germanic languages like Dutch and Norwegian. “Our company has worked in 118 languages so far,” she said. It plans to soon set up offices in Mumbai, Delhi and the US.